Worship should also be done on the night of Eid-ul-Fitr/ عید الفطر کی رات میں بھی عبادت کرنی چاہیے

٭…عید الفطر کی شب میں عبادت کرنا مستحب ہے، جیساکہ حدیث میں ہے کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے متعلق میری امت کو خاص طور پر پانچ چیزیں دی گئی ہیں، جو پہلی امتوں کو نہیں ملیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ صحابہٴ کرام نے عرض کیا کہ کیا یہ شب ِمغفرت شب ِقدر ہی تو نہیں ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کا کام ختم ہوتے ہی اسے مزدوری دے دی جاتی ہے۔ (مسند احمد، بزار ، بیہقی، ابن حبان) معلوم ہوا کہ عید کی رات میں بھی ہمیں عبادت کرنی چاہیے اور اِس بابرکت رات میں خرافات میں لگنے اور بازاروں میں گھومنے کے بجائے عشاء اور فجر کی نمازوں کی وقت پر ادائیگی کرنی چاہیے، نیز تلاوتِ قرآن ، ذکر واذکار اور دعاوٴں میں اپنے آپ کو مشغول رکھنا چاہیے یا کم از کم نمازِ عشاء اور نماز فجر جماعت کے ساتھ ادا کریں۔

عید الفطر کے بعض مسائل اور احکام

اسلام نے عید الفطر کے موقع پر شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے مل جل کر خوشیاں منانے کی اجازت دی ہے۔ احادیث میں وارد ہے کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں دیکھا کہ لوگ دو دنوں کو تہوار کے طور پر مناتے ہیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے جب اہل مدینہ سے دریافت کیا کہ یہ دو دن کیسے ہیں جن میں وہ کھیل کود میں مشغول رہتے ہیں اور خوشیاں مناتے ہیں؟ تو انصار نے جواب دیا کہ ہم لوگ زمانہٴ قدیم سے ان دونوں دنوں میں خوشیاں مناتے چلے آرہے ہیں۔ یہ سن کر حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان دودنوں سے بہتر دو دن مقرر فرمائے ہیں،ایک عید الفطر اور دوسرا عید الاضحی۔ (ابوداود)

٭…عید الفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، جیساکہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات میں وارد ہوا ہے۔

٭…عید کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، حسب ِاستطاعت عمدہ کپڑے پہننا، خوش بو لگانا، صبح ہونے کے بعد عید کی نماز سے پہلے کھجور یا کوئی میٹھی چیز کھانا، عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے صدقہٴ فطر ادا کرنا، ایک راستہ سے عیدگاہ جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا، نماز کے لیے جاتے ہوئے تکبیر کہنا: ”َللّٰہُ اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر،لَا اِلہَ اِلَّا اللّٰہ، وَاللّٰہُ اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر، وَلِلّٰہِ الْحَمْد“ یہ سب عید کی سنتوں میں سے ہیں۔

٭…حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم عید الفطر میں نماز سے پہلے کچھ کھاکر جاتے تھے اور عید الاضحی میں بغیر کھائے جاتے تھے۔ (ترمذی)

٭…عید الفطر کے روز نماز عید سے قبل نماز اشراق نہ پڑھیں۔ (بخاری ومسلم)

٭…عید الفطر کے دن دو رکعت نماز جماعت کے ساتھ بطور شکریہ ادا کرنا واجب ہے۔

٭…عید الفطر کی نماز کا وقت طلوع ِآفتاب کے بعد سے شروع ہوجاتاہے۔

٭…عید الفطراور عید الاضحی کی نماز میں زائد تکبیریں بھی کہی جاتی ہیں، جن کی تعداد میں فقہاء کا اختلاف ہے، البتہ زائد تکبیروں کے کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں امت مسلمہ نماز کے صحیح ہونے پر متفق ہے۔80 ہجری میں پیدا ہوئے مشہور فقیہ ومحدث حضرت امام ابوحنیفہ نے 6 زائد تکبیروں کے قول کو اختیار کیا ہے، جس کے متعدد دلائل میں سے تین دلائل پیش خدمت ہیں:

٭…حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم عیدالاضحی اور عید الفطر میں کتنی تکبیریں کہتے تھے؟ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: چار تکبیریں کہتے تھے جنازہ کی تکبیروں کی طرح۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے (حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی تصدیق کرتے ہوئے) کہا کہ انہوں نے سچ کہا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب میں بصرہ میں گورنر تھا تو وہاں بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داوٴد۔باب التکبیر فی العیدین، السنن الکبری للبیہقی ۔باب فی ذکر الخبر الذی قد روی فی التکبیر اربعاً)

٭…احادیث کی متعدد کتابوں میں جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے عیدین کی چار تکبیریں (پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے ساتھ اور دوسری رکعت میں رکوع کی تکبیر کے ساتھ) منقول ہیں۔یاد رکھیں کہ حضرت امام ابوحنیفہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے خصوصی شاگرد ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرآن وحدیث فہمی کے حقیقی وارث بنے ۔

..امام طحاوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد تکبیراتِ جنازہ کی تعداد میں اختلاف ہوا ۔ حضرت عمر فاروق کے عہد خلافت میں حضرات صحابہٴ کرام نے باہمی غوروخوض کے بعد اس امر پر اتفاق کیا کہ جنازہ کی بھی چار تکبیریں ہیں نماز عیدالاضحی اور عید الفطر کی چار تکبیروں کی طرح (پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے ساتھ اور دوسری رکعت میں رکوع کی تکبیر کے ساتھ) ۔ (طحاوی ۔ التکبیر علی الجنائز کم ہو؟) غرضیکہ عہد فاروقی میں اختلافی مسئلہ”تکبیراتِ جنازہ“ کو طے شدہ مسئلہ “تکبیراتِ عید” کے مشابہ قرار دے کر چار کی تعیین کردی گئی۔

صدقہٴ فطر کے احکام ومسائل
زکاة کی دو قسمیں ہیں: زکاة المال: یعنی مال کی زکوٰة جو مال کی ایک خاص مقدار پر فرض ہے۔ زکاة الفطر: یعنی بدن کی زکاة، اس کو صدقہٴ فطر کہا جاتا ہے۔

صدقہٴ فطر کیا ہے؟

فطر کے معنی روزہ کھولنے یا روزہ نہ رکھنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اُس صدقہ کا نام صدقہٴ فطر ہے جو ماہ رمضان کے ختم ہونے پر روزہ کھل جانے کی خوشی اور شکریہ کے طور پر ادا کیا جاتا ہے، نیز صدقہٴ فطر رمضان کی کوتاہیوں اور غلطیوں کا کفارہ بھی بنتا ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”زَکَاةُ الْفِطْرِ طُہْرَةٌ لِّلصَّائِمِ مِنَ اللَّغوِ وَالرَّفثِ، وَطُعْمَةٌ لِّلْمَسَاکِین“ صدقہٴ فطر روزہ دار کی بے کار بات اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کے لیے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ (ابو داود، ح 1606، ابن ماجہ، ح 1872)

صدقہٴ فطر مقرر ہونے کی وجہ

عید الفطر میں صدقہ اِس واسطے مقرر کیا گیا ہے کہ اِس میں روزہ داروں کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور اُن کے روزوں کی تکمیل ہے۔ نیز مال داروں کے گھروں میں تو اُس روز عید ہوتی ہے، مختلف قسم کے پکوان پکتے ہیں، اچھے کپڑے پہنے جاتے ہیں، جب کہ غریبوں کے گھروں میں بوجہ غربت اسی طرح روزہ کی شکل موجود ہوتی ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے مال دار اور اچھے کھاتے پیتے لوگوں پر لازم ٹھہرایا کہ غریبوں کو عید سے پہلے صدقہٴ فطر دے دیں، تاکہ وہ بھی خوشیوں میں شریک ہو سکیں، وہ بھی اچھا کھا پی سکیں اور اچھا پہن سکیں۔

صدقہٴ فطر کا وجوب

متعدد احادیث سے صدقہٴ فطر کا وجوب ثابت ہے، اختصار کے مدنظر تین احادیث پر اکتفا کررہا ہوں:
٭…حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے صدقہٴ فطر مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے، خواہ وہ غلام ہو یا آزاد، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا۔ (بخاری ومسلم)

٭…حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے رمضان کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ اپنے روزوں کا صدقہ نکالو۔ (ابوداود)

٭…اسی طرح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کی گلیوں میں ایک منادی کو اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ صدقہٴ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے، خواہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا۔ (ترمذی)

صدقہٴ فطر کس پر واجب ہے؟
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اقوال کی روشنی میں امام ابوحنیفہ کی رائے کے مطابق جو مسلمان اتنا مال دار ہو کہ ضروریات سے زائد اُس کے پاس اُتنی قیمت کا مال واسباب موجود ہو جتنی قیمت پر زکاة واجب ہوتی ہے تو اُس پر عید الفطر کے دن صدقہٴ فطر واجب ہوگا، چاہے وہ مال واسباب تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو، چاہے اُس پر سال گزرے یا نہیں۔ غرضیکہ صدقہٴ فطر کے وجوب کے لیے زکاة کے فرض ہونے کی تمام شرائط کا پایا جانا ضروری نہیں ہے۔ دیگر علماء کے نزدیک صدقہٴ فطر کے وجوب کے لیے نصاب زکاة کا مالک ہونا بھی شرط نہیں ہے، یعنی جس کے پاس ایک دن اور ایک رات سے زائد کی خوراک اپنے اور زیر کفالت لوگوں کے لیے ہو تو وہ اپنی طرف سے اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے صدقہٴ فطر ادا کرے۔

صدقہٴ فطر کے واجب ہونے کا وقت

عید الفطر کے دن صبح ہوتے ہی یہ صدقہ واجب ہوجاتا ہے۔ لہذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے ہی انتقال کرگیا تو اُس پر صدقہٴ فطر واجب نہیں ہوا اور جو بچہ صبح سے پہلے پیدا ہوا تو اُس کی طرف سے صدقہٴ فطر ادا کیا جائے گا۔

صدقہٴ فطر کی ادائیگی کا وقت
صدقہٴ فطر کی ادائیگی کا اصل وقت عید الفطر کے دن نماز ِ عید سے پہلے ہے، البتہ رمضان کے آخر میں کسی بھی وقت ادا کیا جاسکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہٴ فطر نماز کے لیے جانے سے قبل ادا کردیا جائے۔ (بخاری 1509 ومسلم، 2285)

حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گھر کے چھوٹے بڑے تمام افراد کی طرف سے صدقہٴ فطر دیتے تھے ،حتی کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی دیتے تھے اور عیدالفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہی ادا کردیتے تھے۔

(بخاری 1511)

نمازِ عید الفطر کی ادائیگی تک صدقہٴ فطر ادا نہ کرنے کی صورت میں نماز ِ عید کے بعد بھی قضا کے طور پر دے سکتے ہیں، لیکن اتنی تاخیر کرنا بالکل مناسب نہیں ہے، کیوں کہ اِس سے صدقہٴ فطر کا مقصود ومطلوب ہی فوت ہوجاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کردیا تو یہ قابل قبول زکاة (صدقہٴ فطر) ہوگی اور جس نے نماز کے بعد اسے ادا کیا تو وہ صرف صدقات میں سے ایک صدقہ ہی ہے۔ (ابوداود، ح 1606)

لہٰذا نماز عید سے قبل ہی صدقہٴ فطر ادا کریں۔

صدقہٴ فطر کی مقدار

کھجور اور کشمش کو صدقہٴ فطر میں دینے کی صورت میں علمائے امت کا اتفاق ہے کہ اس میں ایک صاع (نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک پیمانہ) صدقہٴ فطر ادا کرنا ہے، البتہ گیہوں کو صدقہٴ فطر میں دینے کی صورت میں اس کی مقدار کے متعلق علمائے امت میں زمانہٴ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے۔ اکثر علماء کی رائے ہے کہ گیہوں میں آدھا صاع صدقہٴ فطر میں ادا کیا جائے۔ حضرت عثمان، حضرت ابوہریرہ، حضرت جابر، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہم سے صحیح سندوں کے ساتھ گیہوں میں آدھا صاع مروی ہے۔ ہندوستان وپاکستان کے علماء بھی مندرجہ ذیل احادیث کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ صدقہٴ فطر میں گیہوں آدھا صاع ہے، یہی رائے مشہور ومعروف تابعی حضرت امام ابوحنیفہ کی بھی ہے۔

صدقہٴ فطر میں آدھا صاع گیہوں کے دلائل

٭…حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم جَو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع صدقہٴ فطر دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگوں نے گیہوں سے صدقہٴ فطر نکالنے کے سلسلہ میں ان سے گفتگو کی تو آپ نے فرمایا کہ گیہوں سے صدقہٴ فطر میں آدھا صاع دیا جائے، چناں چہ لوگوں نے اسی کو معمول بنا لیا۔

(صحیح بخاری وصحیح مسلم) ۔

ریاض الصالحین کے مصنف اور صحیح مسلم کی سب سے زیادہ مشہور ومعروف شرح لکھنے والے امام نووی نے صحیح مسلم کی شرح میں تحریر کیا ہے کہ اسی حدیث کی بنیا د پر حضرت امام ابوحنیفہ اور دیگر فقہاء نے گیہوں سے آدھے صاع کا فیصلہ کیا ہے۔

٭…نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گیہوں کے ایک صاع سے دو آدمیوں کا صدقہٴ فطر ادا کرو۔ کھجور اور جو کے ایک صاع سے ایک آدمی کا صدقہٴ فطر ادا کرو۔

(دار قطنی، مسند احمد)

٭…حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے صدقہٴ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو ضروری قرار دی۔ صحابہٴ کرام نے گیہوں کے آدھے صاع کو اس کے برابر قرار دیا۔

(بخاری ومسلم)

٭…حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صدقہٴ فطر ہر چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام پر گیہوں کا آدھا صاع اور کھجور وجو کا ایک صاع ضروری ہے۔

(اخرجہ عبدالرزاق )

٭…حضرت اسماء رضی اللہ عنہا صدقہٴ فطر میں گیہوں کا آدھا صاع اور کھجور وجو کا ایک صاع ادا کرتی تھیں۔

(اخرجہ ابن ابی شیبہ)

وضاحت

صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدقہٴ فطر میں ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع کھانے کی اشیاء سے دیا جائے اور کھانے کی اشیاء سے مراد جو یا کھجور یا پنیر یا کشمش ہے، جیساکہ اس حدیث کے خود راوی صحابی رسول حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث کے آخر میں وضاحت کی ہے۔ لیکن اس میں کسی بھی جگہ گیہوں کا تذکرہ نہیں ہے، غرضیکہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اقوال میں کسی بھی جگہ مذکور نہیں ہے کہ گیہوں سے ایک صاع دیا جائے، ہاں! حدیث کی ہر مشہور ومعروف کتاب، حتی کہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں موجود ہے کہ صدقہٴ فطر میں گیہوں دینے کی صورت میں صحابہٴ کرام آدھا صاع(یعنی تقریباً پونے دو کیلوگرام) گیہوں دیا کرتے تھے، جیساکہ مندرجہ بالا احادیث میں مذکور ہے۔

کیا غلہ واناج کے بدلے قیمت دی جاسکتی ہے؟

حضرت امام ابوحنیفہ حضرت امام بخاری حضرت عمر بن عبدالعزیز حضرت حسن بصری،علمائے احناف اور دیگر محدثین وفقہاء وعلماء نے تحریر کیا ہے کہ غلہ واناج کی قیمت بھی صدقہٴ فطر میں دی جاسکتی ہے۔ زمانہ کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اب تقریباً تمام ہی مکاتب فکر کا اتفاق ہے کہ عصر حاضر میں غلہ واناج کے بدلے قیمت بھی دی جاسکتی ہے۔ صدقہٴ فطر میں گیہوں کی قیمت دینے والے حضرات تقریباً پونے دو کیلو گیہوں کی قیمت بازار کے بھاوٴ کے اعتبار سے ادا کریں اور جو مال دار حضرات کھجور یا کشمش سے صدقہٴ فطر ادا کرنا چاہیں تو وہ ایک صاع یعنی تقریباً ساڑھے تین کیلو کی قیمت ادا کریں، اس میں غریبوں کا فائدہ ہے۔

صدقہٴ فطر کے مستحق کون ہیں؟
صدقہٴ فطر غریب وفقیر مساکین کو دیا جائے، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں گزرا ”طُعْمَةٌ لِّلْمَسَاکِین“․

صدقہٴ فطر دوسرے شہر یا دوسرے ملک بھیجا جاسکتا ہے
ایک شہر سے دوسرے شہر میں صدقہٴ فطر بھیجنا مکروہ ہے (یعنی جہاں آپ رہ رہے ہیں، مثلاًریاض میں تو وہیں صدقہٴ فطر ادا کریں)۔ ہاں! اگر دوسرے شہر یا دوسرے ملک، مثلاً پاکستان اور ہندوستان میں غریب رشتہ دار رہتے ہیں یا وہاں کے لوگ زیادہ مستحق ہیں تو اُن کو بھیج دیا تو مکروہ نہیں ہے۔

صدقہٴ فطر سے متعلق چند مسائل
٭…ایک آدمی کا صدقہٴ فطر کئی فقیروں کو اور کئی آدمیوں کا صدقہٴ فطر ایک فقیر کو دیا جاسکتا ہے۔

٭…جس شخص نے کسی وجہ سے رمضان المبارک کے روزے نہیں رکھے اُسے بھی صدقہٴ فطر ادا کرنا چاہیے۔

٭…آج کل جو نوکر چاکر اجرت پر کام کرتے ہیں ان کی طرف سے صدقہٴ فطر ادا کرنا مالک پر واجب نہیں ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: